پت جھڑ

پت جھڑ

کبھی پت جھڑکی شاموں میں
یہ پتے زرد پیڑوں پر
ہوا کے ایک جھونکے سے
لرزتے کپکپاتے ہیں
جدا ہو کر درختوں سے
زمیں پر پھیل جا تے ہیں
کہ جیسے میری پلکوں پر
کُچھ آنسو جھلملاتے ہیں
یقیں کی کھوج میں اکثر
گماں کی زد پہ آتے ہیں
یہ سارے زرد رُو پتے
یہ سارے بے گماں آنسو
کسی سے خوف کھاتے ہیں
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں

شازیہ اکبر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا