ابو جی کے نام

ابو جی کے نام

کب سوچا تھا تم سے بچھڑیں
کب چاہا تھا تم کو چھوڑیں
خوں کی ہم یہ زنجیریں
اس جیون میں کیوں کر توڑیں
منزل تو ہماری بھی تھی وہی
ترا زادِ سفر کچھ کم ہی سہی
آنا ہے ہم کو پاس ترے
لیکن ہیں لمبے یہ رستے
یوں تم نے بدل لی رہ اپنی
اب ہم بھی ہمت ہار چلے
تم بن جینا کب سوچا تھا
تم تارا تھے، تم منزل تھے
تم بچھڑے تو ہم ٹوٹ گئے
تم نیّا تھے تم ساحل تھے
ہم تم بِن دیکھو ڈوب گئے
تم بِن وعدہ روپوش ہوئے
ہم کس کا اب رستہ دیکھیں ؟
تم اپنے ہو کے رُلاتے ہو
ہم اور کسی کو کیا جانیں

شازیہ اکبر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان