باجی

باجی

مشفق و مہرباں ، اِک وسیع سائباں
میری بہنا! رہے تو سدا شادماں
تیرے آنگن میں جگنو چراغاں کریں
تیرے گلشن میں غنچے مہکتے رہیں
تیری آنکھیں ہوں ٹھنڈی،ہو دل پُر سکوں
دُور تُجھ سے رہے سب غموں کا فسوں
قہقہے تیرے یونہی کھنکتے رہیں
تیرے آنچل کے تارے دمکتے رہیں
تیرا احساس ہے راحتِ قلب و جاں
میری بہنا! رہے تو سدا شادماں

شازیہ اکبر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی