پیاری بیٹی حوریہ ایمان کے نام

پیاری بیٹی حوریہ ایمان کے نام

خدا تجھے کسی غم سے بھی آشنا نہ کرے
ہزاروں پھول کھلیں تو جہاں جہاں ٹھہرے
تمہاری آنکھوں میں جلتے رہیں خوشی کے چراغ
تری حیات بہاروں کے درمیاں ٹھہرے
تو عندلیبِ چمن بن کے شاخ شاخ پھرے
تو بوئے گل کی طرح عمر بھر مہکتی رہے
تری جبیں سے ستاروں کی روشنی پھوٹے
ترے لبوں پہ تبسم کی لو چمکتی رہے

شازیہ اکبر

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں