بے نام مسافت

بے نام مسافت

ہم کہاں سے آئے ہیں ؟
اور کدھر کو جانا ہے؟
راستہ نہیں معلوم
کچھ خبر نہ منزل کی
مضطرب ہے دل اپنا
روح بے سہارا ہے
رت جگے ہیں آنکھوں میں
اور لبوں پہ نغمے ہیں
کوئی یہ نہ سمجھے گا،کوئی یہ نہ جانے گا
ہم کو کون پہچانے
ہم کہ ایک مدت سے
بے کنار صحرا میں
غم نشیں ہوئے آ کر
خوشبوئیں ہیں یا محفل
راستے ہیں یا منزل
کُچھ تو آخر اپنا ہے
یا تمام سپنا ہے

شازیہ اکبر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان