اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

رنج كيا كيا ہیں ایك جان کے ساتھ
زندگی موت ہے حیات نہیں

کوئی دلسوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں

ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں

قیس ہو، كوہكن ہو، يا حالی
عاشقی کچھ كسي کی ذات نہیں

 

الطاف حسین حالی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل