ذوق سب جاتے رہے

ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد
اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا

عیب سے خالی نہ واعظ ہے نہ ہم
ہم پہ منہ آئے گا منہ کی کھائے گا

باغ و صحرا میں رہے جو تنگ دل
جی قفس میں اس کا کیا گھبرائے گا

الطاف حسین حالی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل