اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو

اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھ ہو

تو جانتا نہیں مری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے کبھی کود خفا بھی ہو

تو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

پت جھڑ کے ٹوٹتے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ
موسم کبھی تو بدلے گا یہ آسرا بھی ہو

چپ چاپ اس کو بیٹھ کے دیکھوں تمام رات
جاگا ہوا بھی ہو کوئی سویا ہوا بھی ہو

اس کے لیے تو میں نے یہاں تک دعائیں کیں
میری طرح سے کوئی اسے چاہتا بھی ہو

بشیر بدر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے