اب کے منظر سے ہٹا دوں اس کو

اب کے منظر سے ہٹا دوں اس کو
جی میں آتا ہے بھلا دوں اس کو

عمر بھر جس کو دعائیں دی ہیں
جھڑکیاں دےکےبھگا دوں اس کو

بے وفا ہو کے ذرہ سا میں بھی
بے وفائی کی سزا دوں اس کو

وہ جو سمجھا ہے مجھے دیوانہ
خوابِ غفلت سے جگا دوں اس کو

آج آئے وہ جو ملنے مجھ سے
اس کے تحفے نہ تھما دوں اس کو

یہ تماشا بھی سرِ محفل ہو
آج محفل سے اٹھا دوں اس کو

تیز آندھی کے حوالے کر کے
مانندِ گرد اڑا دوں اس کو

چھوڑ کر کارِ نگہبانی کو
مار کے پھونک بُجا دوں اس کو

وہ جو گلشن ہے مِرا پالا ہوا
تم کہو، آگ لگا دوں اس کو

وہ جو مٹی کا خدا ہے فائز
آج دریا میں بہا دوں اس کو

سلیم فائز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے