حسن و دولت ہیں عارضی آخر

حسن و دولت ہیں عارضی آخر
خاک ہونی ہے دلکشی آخر

نام، منصب، عروج، شہرت بھی
سب یہ ہوتے ہیں موسمی آخر

کیوں رنجیدہ ہو انکے جانے پر
پنچھی ہوتے ہیں ہجرتی آخر

ایک جگنو میرا ہم نفس بنا
چھٹ گئی ساری تیرگی آخر

تلخ گوؤں کی ہار لازم تھی
میں نے سادھی تھی خامشی آخر

شام مجھ سے ادھار مانگی ہے
تم بھی نکلے ہو مطلبی آخر

آہ دل پر بھی لوگ واہ بولیں
کیسی آفت ہے شاعری آخر؟

طارق اقبال حاوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی