آپ سے انس ہوا چاہتا ہے

آپ سے انس ہوا چاہتا ہے

پھر کوئی باب کھلا چاہتا ہے

میرے احباب میں کر دو یہ خبر

وہ بھی اب میرا ہوا چاہتا ہے

عقل ہی کو نہیں ندرت مرغوب

دل بھی انداز نیا چاہتا ہے

ہم نئی دوستی کے قائل تھے

کوئی دشمن کا پتہ چاہتا ہے

جو کھٹکتا ہے ایک عالمؔ کو

وہ بھی لوگوں کی دعا چاہتا ہے

افروز عالم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے