آج سورج غروب ہونے تک

آج سورج غروب ہونے تک
چھوڑ آنا اُسے بچھونے تک

دیکھنا نیند اس کو آ جائے
جاگتے رہنا اس کے سونے تک

اپنے پیروں کے بل کھڑی ہوں میں
ہاتھ جاتا نہیں کھلونے تک

پھول ہے تُو میں پتی پتی ہوں
تیرا ہونا ہے میرے ہونے تک

پھول بکھرے پڑے تھے کمرے میں
دھوپ آئی ہوئی تھی کونے تک

تجدید قیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے