زندگی کی الجھنوں میں

زندگی کی الجھنوں میں الجھ گیا هے انسان یہاں
جس کو دیکھو لگتا هے وہی هے بس پریشان یہاں

سب کچھ حاصل کرلینے کی جستجو میں یاروں
بھول کر رشتوں کو نهیں هیں هم پشیماں یہاں

اس دنیا میں جو هے آیا اس کو تو وآپس جانا هے
اس دنیا میں انے والے سب هی تو هیں مهمان یہاں

دیتا هے رب هر انسان کو بڑھکر اس کی اوقات سے
پهر بھی کسی حال میں خوش نهیں انسان یہاں

جو نهیں ملا نه کرو گله جو ملا هے کرکے شکر اد
خواهش نفس کو مار کر بس بچالو اپنا ایمان یہاں

زندگی کی مشکلوں کا سامنا کیا هے ہمیشہ یوسف
وه رب همیشه رها همیشه کی طرح مهرباں یہاں

محمد یوسف برکاتی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا