زندگی کا سفر

زندگی کا سفر
تھکا دینے والا رہا
برہنہ پا چلتے چلتے
ہر ناسور رستا رہا
جہرے پہ سجی رہی
مسکان ہر دم
دل مگر خون کے
آنسو روتا رہا
بلند بختی رہی باپ کی
آغوش تک
پھر بس یاد وہ
زمانہ آتا رہا
حساس دل کو یوں
چھلنی کیا اس نے
ہر زخمِ جگر جلتا رہا
یوں آسودہ ہے وہ کہ
جیسے کچھ ہوا
ہی نہیں۔۔۔ِ
میں تڑپتی رہی
احساس روتا رہا

اسماء بتول

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

آمد

چلو چلیں