زندگی کا لطف

زندگی کا لطف بھی آ جائے گا

زندگانی ہے تو دیکھا جائے گا

جس طرح لکڑی کو کھا جاتا ہے گھن

رفتہ رفتہ غم مجھے کھا جائے گا

حشر کے دن میری چپ کا ماجرا

کچھ نہ کچھ تم سے بھی پوچھا جائے گا

مسکرا کر منہ چڑا کر گھور کر

جا رہے ہو خیر دیکھا جائے گا

کر دیا ہے تم نے دل کو مطمئن

دیکھ لینا سخت گھبرا جائے گا

حضرت دل کام سے جاؤں گا میں

دل لگی میں آپ کا کیا جائے گا

دوستوں کی بے وفائی پر حفیظؔ

صبر کرنا بھی مجھے آ جائے گا
حفیظ جالندھری​

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے