ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا

ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا
غم کی گہرائی میں بھی تھی رہنما، وہ باوفا

ظلم کے ایوان لرزے، تخت کانپے حرف سے
جب سنایا خطبۂ صدق و صفا، وہ باوفا

تشنہ لب، بے ساز و ساماں، ریگ زارِ کربلا
خون سے لکھتی رہی دینِ خدا، وہ باوفا

صرصرِ شب میں بھی جن کے حوصلے ٹوٹے نہیں
کربلا کی شاہزادی، باحیا، وہ باوفا

دربدر ہوتے ہوئے بھی صبر کا پیکر رہیں
زینبِ محشر نگاہِ کبریا، وہ باوفا

جب جفا نے ڈھانپ لی تھی ہر طرف ظلمت کی شب
حق کے منظر بن کے ابھری رہنما، وہ باوفا

خونِ دل سے لفظ چن کر کہہ رہی ہے ثوبیہ
زندگی کی اصل ہے نقشِ وفا، وہ باوفا

ثوبیہ راجپوت

Related posts

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟