شامِ الم پہ شامِ وفا پر سلام ہو
ابنِ علی کے صبر و رضا پر سلام ہو
خیموں میں جلتی پیاس کی تفسیر بن گئے
سجاد کے سکوتِ دعا پر سلام ہو
ننھا جو تشنہ لب تھا صدا دے گیا ہمیں
اصغر کے لعل لب کی صدا پر سلام ہو
ہر قطرۂ لہو ہے سدا عدل کے لیے
ان اہلِ حق کے صدق و صفا پر سلام ہو
رخصت ہوا جو ماں کو وداعی سلام دے
اکبر کے حسن و حُسنِ ادا پر سلام ہو
ثوبی تری نواؤں میں کرب و بلا کا رنگ
دل کی تڑپ پہ اشکِ عزا پر سلام ہو
ثوبیہ راجپوت