زہریلی بارش

زہریلی بارش

اُس دن کی بارش دیکھی ہے کبھی؟
اس دن کی۔۔ جس دن تمھاری آنکھوں کا رنگ بدل گیا تھا
جس دن بارش میں میرے آنسو گھل رہے تھے
اور تمھارا جسم کسی اور جسم میں گھل رہا تھا
اس دن کی بارش دیکھی ہے کبھی ؟
دعا کر نا ایسی بارش نہ دیکھو کھبی
ایسی بارش دیکھنا نہ کھبی
ایسی بارش میں پورا جسم ۔۔پو ری روح بہہ جاتی ہے
ایسی بارش مجھ پر برسی تھی
ریڈنگز کے باہر کھڑی تھی میں
کاؤنٹر پر میری کتابوں کی پیمنٹ ہو گئی تھی
میں کپڑوں سمیت بارش میں بھیگ گئی تھی
میری روح بے لباس کھڑی تھی
ا ور تمھارا جسم کسی اور جسم کو ڈھانپتا رہا
میں تنہا لاوارث کھڑی سسکتی رہی
اور تم کسی اور کا سائبان بنے رہے
گاڑیاں پاس سے ہارن بجاتی گذرتی رہیں
اور میرے اندر سناٹا پھیلتا رہا
اس دن کی بارش دیکھو گے ؟
ایسی بارش تم نہیں دیکھ پا ؤ گے
جب کتابوں کی پیمنٹ پہلے سے ہو گئی ہو اور
بھیگا جسم بے لباس روح کے ساتھ تنہا سسک رہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔

روبینہ فیصل

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے