ذہن سے دل کا بار اترا ہے

ذہن سے دل کا بار اترا ہے
پیرہن تار تار اترا ہے

ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ
کون ایسے میں پار اترا ہے

ترک مے کر کے بھی بہت پچھتائے
مدتوں میں خمار اترا ہے

دیکھ کر میرا دشت تنہائی
رنگ روئے بہار اترا ہے

پچھلی شب چاند میرے ساغر میں
پے بہ پے بار بار اترا ہے

ابنِ صفی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل