ذہن میں صورتِ گماں ٹھہری

ذہن میں صورتِ گماں ٹھہری
وہ نظر اس طرح کہاں ٹھہری؟

ہم نے جوبے خودی میں کہہ ڈالی
بات وہ زیبِ داستاں ٹھہری

پھول مانگو تو زخم دیتے ہیں
اب یہی رسمِ دوستاں ٹھہری

چاند کو دیکھ کر وہ یاد آئے
چاندنی میری رازداں ٹھہری

خواہشوں میں بکھر گئی محسنؔ
دوستی جنسِ رائیگاں ٹھہری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے