ضروری بات

نیلی نیلی شام کی خاموشیوں کے بیچ
کیا سرگوشیاں سی کرتے ہیں شاخوں سے یہ پتے
جھکا ہے گُل کلی کے رخ پہ ساری خوشبوئیں لے کر
بکھیرے زلف، سورج کی طرف چل دی ہے اک بدلی
ہوا اٹھکیلیاں کرتی ہے رُک رُک کر درختوں سے
زمیں کو آسماں نے لے لیا اپنی پناہوں میں
تم آ جاتے اگر گھر آج جلدی،
مجھ کو بھی تم سے ضروری بات کرنا تھی!

 

ترنم ریاض

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا