برسات کی خشک شام

سنہرے سبز پتے،
سرمئی نیلا سا، نارنجی بہ مائل سرخ رنگ آسماں
خوشبو ہو امیں بھیگی سوندھی سی
ابھی سورج ڈھلا ہی ہے
خنک کمرے کی ساری کھڑکیوں کو بند کر کے
جھانکنا شیشوں کے اندر سے
خوش آگیں مشغلہ ہے

 

ترنم ریاض

Related posts

انسانیت

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

مری زندگی تو فراق ہے