شرمیلی خاموشی

شام کی شرمیلی چپ کو
روح میں محسوس کرتے
کام میں مصروف ہیں ہم دوپہر سے
دل کی آنکھیں دیکھتی ہیں گہری گہری سبز شاخوں کو
جو بیٹھی ہیں خموشی سے
کئے خم گردنیں اپنی
کسی دلہن کی صورت
سر پہ اوڑھے آسماں کی سرمئی چنری
ستارے جس میں ٹانکے جا رہے ہیں
ہم اپنے اس تصور پر خود ہی مسکا رہے ہیں

ترنم ریاض

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا