شام کا سحر

ابھی پرچھائیاں اونچے درختوں کی،
جدا لگتی ہیں رنگِ آسماں سے،
ذرا پہلے گیا ہے اِک پرندہ باغ کی جانب
اُدھر سے آنے والے ایک طیّارے کی رنگیں بتیاں ،
روشن نہیں اتنی
وہ نکلی ہیں سبھی چمگادڑیں اپنے ٹھکانوں سے
بڑا مبہم سا آیا ہے نظر، زہرا فلک کے بیچ،
ٹی کوزی کے نیچے ہے گرم اب بھی بچا پانی
کسی نے مجھ کو اندر سے نہیں آواز بھی دی
میں
ذرا برآمدے میں اور رہ لوں
فسوں میں شام کے، پُرواسی بہہ لوں

ترنم ریاض

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان