شام کی بارش

کون سے کوہ کی آڑ میں لی خورشید نے جا کر آج پناہ
چو طرفہ یلغار سی کی ہے ابر نے بھی تا حدِ نظر
دھیمے چلتے کالے بادل، اڑتی سی اجلی بدلی
رقصاں رقصاں جھلک دکھا کر رہ جاتی ہے برق کبھی
پتوں کے جھرمٹ میں سائے کجلائے شرمائے سے
پھول حلیمی سے سرخم اور کلیاں کچھ شرمائی سیں
دانستہ بارش میں اڑتے پھرتے آوارہ طائر
یہاں وہاں بیٹھے کتنے بھیگیں چپ چاپ سے خوش ہو کر
بجلی کی مانوس کڑک، شہ زور گرج یہ بادل کی
اب کے ہم نے کتنی دھوپیں اس موسم کی راہ تکی

 

ترنم ریاض

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان