ہزار شعر

شام تجھ پر ہزار شعر کہوں
دل کو پھر بھی قرار آتا نہیں
یہ ترا حسن یہ حلیمی تری
تیری خاموشیاں یہ معنی خیز
دن سمیٹے تو اپنے آنچل میں
کیسے پل پل بکھیر دیتی ہے رنگ
اور اندھیرے میں ڈوب جانے کو
تیرا کچھ ہی گھڑی کا نرم وجود
خوشبوئیں گھولتا فضاؤں میں
دوش پر یوں اڑے ہواؤں کے
جیسے تجھ کو سوائے الفت کے
اور کچھ بھی نہیں سجھا ئی دے
کس قدر پرسکون لگتے ہیں
آ کے تیری پناہ میں یہ شجر
سر بلند ی یہ کوہساروں کی
ہوئی واضح شفق میں تیرے سبب
ہو گئے نغمہ ریزسب طائر
جانے کب میں بھی گنگنانے لگی

 

ترنم ریاض

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان