ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا

ذرا غم زدوں کے بھی غم خوار رہنا

کریں ناز تو ناز بردار رہنا

فراخی و عسرت میں شادی و غم میں

بہرحال یاروں کے تم یار رہنا

سمجھ نردباں اپنی ناکامیوں کو

کہ ہے شرط ہمت طلب گار رہنا

کرو شکر ہے یہ عنایت خدا کی

بلاؤں میں اکثر گرفتار رہنا

اگر آدمی کو نہ ہو مشغلہ کچھ

بہشت بریں میں ہو دشوار رہنا

خبر بھی ہے آدم سے جنت چھٹی کیوں

خلاف جبلت تھا بے کار رہنا

سمجھتے ہیں شیروں کو بھی نرم چارہ

غزالان شہری سے ہشیار رہنا

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے