ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں
لوگ کم ظرف خرافات میں آ جاتے ہیں

تب خدا کی کسی حکمت پہ یقیں آتا ھے
جب ابابیل بھی عرفات میں آ جاتے ہیں

گھر کی دولت کو سر عام لٹا نے والے
باپ مرتا ھے تو اوقات میں آ جاتے ہیں

یاد بچپن کی ستا ئے تو سہولت کے لیے
تتلیاں دیکھنے باغات میں آ جاتے ہیں

اب بھی ماں باپ کے پرکھوں کو سلامی دینے
شھر کے لوگ مضافات میں آ جاتے ہیں

رانا عثمان احامر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان