جسم کو اسم کی تشکیلِ فنا کا دکھ ہے

جسم کو اسم کی تشکیلِ فنا کا دکھ ہے
جس طرح سانس اکھڑنا بھی دعا کا دکھ ھے

خواب ملبوس ہوا نیند نے دستک دے دی
شاہ زادی تری آمد بھی بلا کا دکھ ھے

بات سمجھو مجھے بدلے میں اذیت تو نہ دو
ایک انسان کا دکھ بھی تو خدا کا دکھ ھے

مطمئن بھی ہوں, عدالت میں کھڑا ہوں, خوش ہوں
کیا یہ کم ھے مرے منصف کو سزا کا دکھ ھے

یہ جو اُس پار کے اِس پار بگولے ہیں انہیں
تیز طوفاں کا نہیں سمٹی ہوا کا دکھ ھے

رانا عثمان احامر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی