یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

وفور جذب سے ٹوٹو مگر سنائی نہ دو

زمیں سے ایک تعلق ہے ناگزیر مگر

جو ہو سکے تو اسے رنگ آشنائی نہ دو

یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے

سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو

شہنشہی بھی جو دل کے عوض ملے تو نہ لو

فراز کوہ کے بدلے بھی یہ ترائی نہ دو

جواب تہمت اہل زمانہ میں خورشیدؔ

یہی بہت ہے کہ لب سی رکھو صفائی نہ دو

خورشید رضوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا