یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے

قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے

زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

جیتے ہیں مگر زیست کو آزار سمجھ کر

مرتے ہیں مگر موت سے یاری نہیں رکھتے

مہمان سرا دل کی گرا دیتے ہیں پل میں

ہم صدقۂ جاری کو بھی جاری نہیں رکھتے

تنہا ہی نکلتے ہیں سر کوئے ملامت

ہم راہ کبھی ذلت و خواری نہیں رکھتے

عباس تابش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے