یہ رنگینیِ نوبہار، اللہ اللہ

یہ رنگینیِ نوبہار، اللہ اللہ

یہ جامِ مے خوشگوار، اللہ اللہ

اُدھر ہیں نظر میں نظارے چمن کے

اِدھر رُوبرو رُوئے یار، اللہ اللہ

اُدھر جلوۂ مضطرب، توبہ توبہ

اِدھر یہ دلِ بے قرار، اللہ اللہ

وہ لب ہیں کہ ہے وجد میں موجِ کوثر

وہ زلفیں ہیں یا خلد زار، اللہ اللہ

میں اِس حالتِ ہوش میں مست و بیخود

وہ مستی میں بھی ہوشیار، اللہ اللہ

صوفی غلام مصطفٰی تبسم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے