یہ نہیں راستہ نہیں معلوم

یہ نہیں راستہ نہیں معلوم
واپسی ہو گی کیا نہیں معلوم

زندگی مجموعہ مصائب کا
موت ہے چیز کیا نہیں معلوم

ایک قاتل تو خاندان سے تھا
دوسرا کون تھا نہیں معلوم

زندگی اور موت کے مابین
کتنا ہے فاصلہ نہیں معلوم

بے وفائی ہے اک گناہِ عظیم
شاید تم کو سزا نہیں معلوم

خوب ہے ابتدا محبت کی
اور ہمیں انتہا نہیں معلوم

یاد کچھ بھی عزائی رہتا نہیں
ذہن کو کیا ہوا نہیں معلوم

اعجاز عزائی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا