مجھے تو اپنی حفاظت میں رکھ خدا میرے

مجھے تو اپنی حفاظت میں رکھ خدا میرے
مخالفت پہ اُتر آئے آشنا میرے

کبھی کبھی مرا ہونا ، مجھے بتاتا ہے
یہ کائنات مکمل نہ تھی بنا میرے

کڑے دنوں میں سگے بھائی ساتھ چھوڑ گئے
عجیب موڑ پہ بازو ہوئے جدا میرے

یہی حیات اگر ہے تو مجھ کو کہنے دو
گلے پڑی ہے بڑی سے بلا میرے

ہوائے شہر عزائی مرے خلاف سہی
سو میرے بعد یہ چومے گی نقشِ پا میرے

اعجاز عزائی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا