یہ جنگ کاجوکھیل ہے رچا ہوا عجیب ہے

یہ جنگ کاجوکھیل ہے رچا ہوا عجیب ہے
یہ آدمی کارزق بھی لگا ہوا عجیب ہے

اس آگ میں جولوگ جھونکے جارہے ہیں ہرگھڑی
ملی ہے جُرم کےبغیر اُنھیں سزا عجیب ہے

اُنھیں توراس آگیایہ کاروبارِ کُشت وخوں
جگہ جگہ ہمارا ہی جو خوں بہا عجیب ہے

جوبک رہاہےاسلِحہ یہودکی ہیں سازشیں
جوہم ہی ہوں گُتھم گتھا تویہ بڑا عجیب ہے

یہ ساراکھیل تومیاں ہےلُوٹ کا کُھسُوٹ کا
سمجھ نہیں سکا تو گر تو یہ بڑا عجیب ہے

ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے