یہ اشتراک فرح، اب ہمیں گوارا نہیں

یہ اشتراک فرح، اب ہمیں گوارا نہیں
وہ اب کسی کا بھی ہوتا رہے، ہمارا نہیں

ضرور دیجئے اس حوصلے کی داد مجھے
کہ خود میں آگ سے گزری، اسے گزارا نہیں

وفا کے باب میں سود و زیاں نہیں ہوتے
سو اس میں جان بھی جائے تو کچھ خسارہ نہیں

یہ ربط وہ ہے، جو قائم فقط خلوص سے ہے
کہ اس ستون کی بنیاد اینٹ، گارا نہیں

میں اس سفر پہ چراغوں کے ساتھ نکلوں گی
اگر چہ حق میں مرے کوئ استخارہ نہیں

سیدہ فرح شاہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے