یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے

یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے
ہمارے بعد بھی حالت ہماری رہ جائے

یہ پھول جھڑنے سے بچ جائیں منجمد ہو کر
شجر پہ یوں ہی اگر برف باری رہ جائے

خواص اور بھی معلوم ہو سکیں شاید
ہماری خاک پہ تحقیق جاری رہ جائے

مری زمین کے موسم بدلتے جاتے ہیں
مگر خدا کرے خوشبو تمہاری رہ جائے

وہ دن نہ آئے کہ چھالے ہی گنتا رہ جاؤں
وہ شب نہ آئے کہ انجم شماری رہ جائے

قدم نہ ہوں بھی تو محو قیام رہ جاؤں
جبیں نہ ہو بھی تو سجدہ گزاری رہ جائے

شعاعیں شام و سحر پھوٹتی رہیں شاہدؔ
ہمارے دل کی یوں ہی تاب کاری رہ جائے

شاہد ماکلی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے