یہ دکھاوے کی ندامت

یہ دکھاوے کی ندامت مسترد کرتی ہوں میں
آپ کی جھوٹی محبت مسترد کرتی ہوں میں

عمر بھر کا ساتھ دینا ہے اگر تو دیجیے
چار دن کی یہ رفاقت ،مسترد کرتی ہوں میں

یہ تو میں ہوں ہی نہیں یہ آپ ہی کا عکس ہے
آئینے میں اپنی صورت مسترد کرتی ہوں میں

جو ملے گردن جھکا کر شاہ کے دربار میں
ایسا منصب ،ایسی عزت مسترد کرتی ہوں میں

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل