پھرتے ہو جو تنہا تنہا

پھرتے ہو جو تنہا تنہا،اس کا نام محبت ہے
خود ہی خود سے باتیں کرنا ،اس کا نام محبت ہے

پوچھ رہے ہو دنیا سے تم کیا تریاق اداسی کا
میں نے اس کو برسوں جھیلا، اس کا نام محبت ہے

لاکھ جتن کرڈالو اس کو اپنے بس میں کرنے کا
دے گی تم کو آخر دھوکا،اس کا نام محبت ہے

یہ جو مجھ کو ساری دنیا اپنی دشمن لگتی ہے
اچھا ،اچھا، اچھا، اچھا اس کا نام محبت ہے

رب کے بعد مجھے تو شاید صائمہ ایسا لگتا ہے
جس کو جائز ہوتا سجدہ اس کا نام محبت ہے

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا