یہ دھرتی

یہ دھرتی

اس طرف پھیلاؤ،نیلی دوریاں

دورکا آکاش،صدیوں کا غبار

اس طرف کہرام،مٹیالا دھواں

ان گنت سنگیں پھوڑے ،جابجا پھیلے پہاڑ

لوبجھتی بیمار دھرتی کے نشاں

سبز پیڑوں کی ردائیں

آندھیوں سے تار تار

کا ل کا اندھیرسب کچھ لے گیا

ڈوبتی سانسوں کے چہرے،کچھ ابھرتی جھلکیاں

ریت کے اسفنج پر قطروں کے گرنے کا سماں

موسموں کی بھیڑ،آوازوں کی بکھری دھجیاں

خون پیتے ہونٹ،صدیوں کی پرانی داستاں

گوشت کے ٹکڑوں کے جادو،سوانگ بھرتی ندیاں

دھند میں سب کھوگئیں ،کوئی انہیں ڈھونڈے کہاں

احمد ہمیش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے