یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے

یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے
ہماری دولتِ عمرِ شباب اڑتی ہے

عرق فشاں گلِ رخسار آج ہیں کس کے
صبا، چمن میں جو بوئے گلاب اڑتی ہے

کرے ہے قتل ہزاروں کو تیری تیغِ نگاہ
نہ اس کا مٹتا ہے جوہر، نہ آب اڑتی ہے

تجھے سناتا ہوں میں اپنا گر فسانۂ غم
تو نیند بھی تری اے مستِ خواب، اڑتی ہے

جلایا تُو نے جگر کس کا شوخِ آتش خُو
تری جو بزم میں بوئے کباب اڑتی ہے​

رہے ہے شدتِ گریہ میں بھی مکدر دل
عجب ہے گرد یہاں تو، پر آب اڑتی ہے

پڑے نہ دامنِ قاتل پہ دیکھ اے بسمل
لہو کی چھینٹ دمِ اضطراب اڑتی ہے

اوڑا پھرے ہے تنِ زار یوں ظفرؔ میرا
ہوا پہ جوں کوئی تکّل خراب اڑتی ہے

(بہادر شاہ ظفرؔ)​

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے