یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا

یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
ہر ستم اس کا نیا اس کا ہے ہر پیار نیا

نئی انداز کا ہے دامِ بلا طرۂ یار
روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا

تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں
تیرا اقرار نیا ہے ترا انکار نیا

کیسے بیدرد دلِ آزار کو دل ہم نے دیا
روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا

کیا قیامت ہے ستمگار تری طرزِ خرام
فتنہ ہر گام پہ اٹھا دمِ رفتار نیا

کریں وہ کس کی دوا دیکھتے ہیں رو ز طبیب
تیرے اس نرگسِ بیمار کا بیمار نیا

پھیر لے اس سے ظفر دل کا جو سودا پھر جائے
ایک موجود ہے اور اس کا خریدار نیا

(بہادر شاہ ظفر)

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے