یاد وہ عمر بھر رہے گا کیا

یاد وہ عمر بھر رہے گا کیا
دل اِسی کام پر رہے گا کیا

کیا بکھر کے رہیں گے خواب مرے
آئنہ ٹوٹ کر رہے گا کیا

کیا ہَوا اب اِدھر نہ آئے گی
حبس یہ عمر بھر رہے گا کیا

وہ جو اِک شخص میرے اندر ہے
میرے اندر ہی مر رہے گا کیا

میں ہَوا کی طرح ہوں آوارہ
تُو مرا ہمسفر رہے گا کیا

نیند اُڑتی رہے گی آنکھوں سے
جشن یہ رات بھر رہے گا کیا

کاشف حسین غائر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے