یاد کی دسترس میں رہتی ھوں

یاد کی دسترس میں رہتی ھوں
میں کہاں اپنے بس میں رہتی ھوں

جس میں کوئی نہیں ھے دروازہ
ایک ایسے قفس میں رہتی ھوں

مجھ کو سننا نہیں کوئی مشکل
میں صدائے جرس میں رہتی ھوں

برسوں پہلے ملی تھی میں تجھ سے
آج تک اس برس میں رہتی ھوں

میرا مرقد ھے آخرش مٹی
اس لئے خار و خس میں رہتی ھوں

زندگی بن گئی ھے دوراہا
آج کل پیش و پس میں رہتی ھوں

ڈھونڈتے ھو کہاں ھے تہمینہ
میں دیار_ نفس میں رہتی ھوں

تہمینہ مرزا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے