یاد آئی کیا تیری بات

یاد آئی کیا تیری بات
نیند نہ آئی ساری رات

تم بھی واپس لا نہ سکو
اتنی دور گئی ہے بات

میرے غم میں ڈوب گئی
انگڑائی لے کر برسات

رسوائی کا نام بُرا
جب چھیڑو تازہ ہے بات

دل کو روشن کرتی ہیں
بجھ کر شمعیں بعض اوقات

جب عرض غم کی باقیؔ
ہنس کر ٹال گئے وہ بات

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی