مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا

مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا
ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا

ترے غرور نے محفل میں جو نہ بات سنی
ترے شعور نے خلوت میں اس کو دہرایا

تمہارے ذکر سے دل کو سکوں ملے نہ ملے
چلو کوئی نہ کوئی مشغلہ تو ہاتھ آیا

بہت غرور تھا اپنی وفاؤں پر جس کو
اسی کو تیری نگاہ کرم نے ٹھکرایا

کچھ اس طرح بھی ملے ہیں فریب غم باقیؔ
قریب پہنچے تو آگے سرک گیا سایا

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی