اب کے آیا ایسا چیت

اب کے آیا ایسا چیت
دل کی صورت چپ ہیں کھیت

پھیلا دریا کا دامن
اوپر پانی نیچے ریت

راہوں کے سناٹے میں
ڈوب گیا دل درد سمیت

اس موسم کا نام ہے کیا
دل میں ساون منہ پر چیت

نام کو آنچ نہیں باقیؔ
دل ہے یا ندی کی ریت

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی