یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا
جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں‌جاری ہو نام تیرا
ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا
احمد رسول تیرا مصحف کلام تیرا
ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلٰی مقام تیرا
محروم کیوں‌رہوں میں جی بھر کے کیوں نہ لوں میں
دیتا ہے رزق سب کو ہے فیض عام تیرا
یہ “داغ“ بھی نہ ہو گا تیرے سوا کسی کا
کونین میں‌ہے جو کچھ وہ ہے تمام تیرا

داغ دہلوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان