وہ پیار اب رہا نہ ترا

وہ پیار اب رہا نہ ترا اور نہ چاہ وہ
باتیں ہی ایک رہ گئیں کہنے کو آہ وہ

پوچھا جو حال اُس نے تو میں اور چپ ہوا
تا ضد میں آ کے لگ ہی پڑے خواہ مخواہ وہ

بے چین ہم کو آپ ہی کرتا ہے ناز سے
رکھتا ہے اور سر پہ ہمارے گناہ وہ

کہیو صبا کہ جسکو تو بٹھلا گیا تھا سو
جوں نقشِ پا پڑا تری دیکھے ہے راہ وہ

مدت سے اُسکی ابرو سے واقف ہی ہم نہیں
شمشیر کی رہی نہیں ہم کو نگاہ وہ

احوال کہہ کے اپنا سبک ہوں میں کس لیے
کیا دیکھتا نہیں مرا حالِ تباہ وہ

پکا ہے ایک اُسکو سمجھتا ہوں خوب میں
اُستاد اپنے کام میں ہے رشکِ ماہ وہ

توڑی نہیں ہے صاف رکھی ہے ابھی لگی
آتا ہے اس طرف بھی نکل گاہ گاہ وہ

تو ہی نباہ اُس سے جو چاہے تو کر حسنؔ
اس پر نہ پھولیو کہ کرے گا نباہ وہ

میر حسن

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے