وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا

وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا

ایسا لگا کہ جیسے کوئی زخم چھل گیا

اس کے تو جیسے پاؤں زمیں نے پکڑ لیے

اور میں کسی شجر کی طرح جڑ سے ہل گیا

اس کے بھی لفظ جیسے مقفل سے ہو گئے

میرے بھی لب پہ جیسے کوئی حرف سِل گیا

اس کے بھی دل کے رنگ نگاہوں تک آ گئے

مجھ میں بھی قافلہ سا چلا ، تا بہ دل گیا

لمحے ، کہ جیسے وقت میں گرہیں سی پڑ گئیں

منظر کہ جیسے آنکھ کے پردے پہ سل گیا

وہ جس پہ اندمال کی مدت گزر چکی

اندر کہیں وہ زخم رگِ جاں سے مل گیا

پھولوں نے جیسے جھانک لیا تھا مرا وجود

دل کا ہر ایک رنگ درختوں پہ کھل گیا

دھندلی سی کچھ وداع کی تصویر ہے سعود

منظر کشی کے وقت کوئی عکس ہل گیا

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے